“The hair's parting, sharp as a naked sword, is deadly wonder, the scent of her locks still just the same; The woven braid of her bun is the wrath of God, the scent of her locks still just the same.”
ننگی تلوار جیسی مانگ غضب ڈھا رہی ہے اور بالوں کی خوشبو پھر بھی ویسی ہی ہے؛ جوڑے کی بناوٹ قیامت خیز ہے، مگر بالوں کی مہک اب بھی ویسی کی ویسی ہے۔
اس شعر میں شاعر محبوب کے حسن اور اس کے بالوں کے دلکش سنگھار پر فریفتہ نظر آتا ہے۔ مانگ کا سیدھا پن اسے برہنہ تلوار کی طرح دل کو گھائل کرنے والا لگتا ہے، اور جوڑے کی نزاکت و بناوٹ قیامت ڈھا رہی ہے۔ لیکن اس سارے سحر انگیز حسن کے درمیان جو چیز سب سے زیادہ دل کو چھوتی ہے، وہ زلفوں کی وہی پرانی اور جانی پہچانی خوشبو ہے جو وقت کے ساتھ ذرا بھی مدہم نہیں ہوئی۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
