“If her glowing hue is blazing fire, and her nose a defiant flame, Like lightning flashes this fairy-faced love, her cheeks' bright radiance ever the same.”
اگر محبوب کا رنگ دہکتی ہوئی آگ جیسا اور ناک کسی سرکش شعلے کی طرح ہے، تو یہ پری بجلی کی طرح چمکتی ہے اور اس کے گالوں کی چمک بھی ویسی ہی برقرار ہے۔
اس شعر میں محبوب کے حسن کو سراپا شعلہ اور نور بنا کر پیش کیا گیا ہے۔ اس کا دمکتا ہوا سرخ رنگ دہکتی آگ ہے، ستواں اور تیکھی ناک کسی سرکش شعلے کی مانند ہے، اور رخساروں کی تابانی بجلی بن کر دل پر کوندتی ہے۔ شاعر دراصل حسن کی ایسی پرجوش اور تیکھی ادا کی تصویر کشی کر رہا ہے جو نگاہوں کو مسحور اور خیرہ کر دینے کی بھرپور قوت رکھتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
