غزل

پان کھا کر سرمہ کی تحریر پھر کھینچی تو کیا

پان کھا کر سرمہ کی تحریر پھر کھینچی تو کیا
بہادر شاہ ظفر· Ghazal· 9 shers· radif: फिर खींची तो क्या

یہ غزل وقت گزر جانے کے بعد بے سود کوششوں اور بربادی کے بعد بناؤ سنگھار کی بے معنویت کو بیان کرتی ہے۔ شاعر نے محبوب کی بے رحم اداؤں اور تقدیر کے سامنے انسان کی بے بسی کو حسرت، طنز اور گہرے ملال کے ساتھ پیش کیا ہے۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
पान खा कर सुर्मा की तहरीर फिर खींची तो क्या जब मिरा ख़ूँ हो चुका शमशीर फिर खींची तो क्या
پان کھا کر سرمہ کی تحریر پھر کھینچی تو کیا جب مرا خوں ہو چکا شمشیر پھر کھینچی تو کیا
پان کھانے کے بعد آنکھوں میں سرمے کی لکیر دوبارہ کھینچنے کا کیا فائدہ؟ جب میرا خون بہہ چکا اور میں مارا جا چکا، تو اب تلوار دوبارہ نکالنے کا کیا حاصل۔
2
ऐ मुहव्विस जब कि ज़र तेरे नसीबों में नहीं तू ने मेहनत भी पय-ए-इक्सीर फिर खींची तो क्या
اے مہوس جب کہ زر تیرے نصیبوں میں نہیں تو نے محنت بھی پئے اکسیر پھر کھینچی تو کیا
اے لالچی انسان، جب دولت تیرے نصیب میں ہی نہیں ہے، تو پھر اگر تو نے اکسیر حاصل کرنے کے لیے اتنی محنت و مشقت بھی کی تو اس کا کیا فائدہ؟
3
गर खिंचे सीने से नावक रूह तू क़ालिब से खींच ऐ अजल जब खिंच गया वो तीर फिर खींची तो क्या
گر کھنچے سینہ سے ناوک روح تو قالب سے کھینچ اے اجل جب کھنچ گیا وہ تیر پھر کھینچی تو کیا
اے موت! اگر سینے سے وہ تیر نکالا جائے تو اسی وقت میرے جسم سے روح بھی نکال لے، کیونکہ جب وہ تیر نکل ہی گیا تو اس کے بعد جان نکالنے کا کیا فائدہ۔
4
खींचता था पाँव मेरा पहले ही ज़ंजीर से ऐ जुनूँ तू ने मिरी ज़ंजीर फिर खींची तो क्या
کھینچتا تھا پاؤں میرا پہلے ہی زنجیر سے اے جنوں تو نے مری زنجیر پھر کھینچی تو کیا
میرا پاؤں تو پہلے ہی زنجیر کے خلاف کھنچ رہا تھا؛ اے جنون، اگر تو نے میری زنجیر دوبارہ کھینچ بھی لی تو کیا ہوا۔
5
दार ही पर उस ने खींचा जब सर-ए-बाज़ार-इश्क़ लाश भी मेरी पय-ए-तशहीर फिर खींची तो क्या
دار ہی پر اس نے کھینچا جب سر بازار عشق لاش بھی میری پئے تشہیر پھر کھینچی تو کیا
جب محبوب نے سرِ بازارِ عشق مجھے سولی پر چڑھا ہی دیا، تو پھر تشہیر اور رسوائی کے لیے میری لاش کو بھی گھسیٹا تو کیا فرق پڑتا ہے۔
6
खींच अब नाला कोई ऐसा कि हो उस को असर तू ने ऐ दिल आह-ए-पुर-तासीर फिर खींची तो क्या
کھینچ اب نالہ کوئی ایسا کہ ہو اس کو اثر تو نے اے دل آہ پر تاثیر پھر کھینچی تو کیا
اب کوئی ایسی فریاد کر جس کا اس پر اثر ہو؛ اے دل، اگر تو نے دوبارہ کوئی پرتاثیر آہ بھر بھی لی تو اس کا کیا فائدہ ہوگا؟
7
चाहिए उस का तसव्वुर ही से नक़्शा खींचना देख कर तस्वीर को तस्वीर फिर खींची तो क्या
چاہیئے اس کا تصور ہی سے نقشہ کھینچنا دیکھ کر تصویر کو تصویر پھر کھینچی تو کیا
محبوب کا نقشہ صرف خیال اور تصور سے بنانا چاہیے؛ کسی تصویر کو دیکھ کر ویسی ہی تصویر بنا لینا کوئی کمال کی بات نہیں۔
8
खींच ले अव्वल ही से दिल की इनान-ए-इख़्तियार तू ने गर ऐ आशिक़-ए-दिल-गीर फिर खींची तो क्या
کھینچ لے اول ہی سے دل کی عنان اختیار تو نے گر اے عاشق دلگیر پھر کھینچی تو کیا
شروع ہی سے اپنے دل کے اختیار کی لگام تھام لو؛ اے غمزدہ عاشق، اگر بعد میں اسے روکا تو پھر کیا فائدہ ہوگا؟
9
क्या हुआ आगे उठाए गर 'ज़फ़र' अहसान-ए-अक़्ल और अगर अब मिन्नत-ए-तदबीर फिर खींची तो क्या
کیا ہوا آگے اٹھائے گر ظفرؔ احسان عقل اور اگر اب منت تدبیر پھر کھینچی تو کیا
اگر پہلے 'ظفر' نے عقل کا احسان اٹھا بھی لیا تو کیا ہوا، اور اگر اب پھر تدبیر کا احسان اٹھا لیا تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.