“One ought to sketch their portrait purely from imagination; what art is there in drawing a picture merely by copying one?”
محبوب کا نقشہ صرف خیال اور تصور سے بنانا چاہیے؛ کسی تصویر کو دیکھ کر ویسی ہی تصویر بنا لینا کوئی کمال کی بات نہیں۔
شاعر اس شعر میں محبت اور فن کی اصل روح کو بیان کر رہا ہے کہ محبوب کا سراپا محض دل میں بسے گہرے تصور اور احساس سے کھینچنا چاہیے۔ کسی بنی بنائی تصویر کو سامنے رکھ کر نقل بنا لینا کوئی بڑا کمال نہیں، اصل فنکاری تو وہ ہے جو دل کی آنکھ سے وجود پائے۔ سچی محبت اپنے محبوب کو اس طرح رُوح میں بسا لیتی ہے کہ اس کا جلوہ دکھانے کے لیے کسی ظاہری عکس کی محتاجی باقی نہیں رہتی۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
