کیا ہوا آگے اٹھائے گر ظفرؔ احسان عقل اور اگر اب منت تدبیر پھر کھینچی تو کیا

“What if in days gone by, 'Zafar' bore the obligation of reason? And what of it if now he yields once more to the entreaties of contrivance?”

— بہادر شاہ ظفر
معنی

اگر پہلے 'ظفر' نے عقل کا احسان اٹھا بھی لیا تو کیا ہوا، اور اگر اب پھر تدبیر کا احسان اٹھا لیا تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔

تشریح

اس شعر میں ظفرؔ تقدیر اور زندگی کے اتار چڑھاؤ کے سامنے عقل و تدبیر کی بے بسی کو بڑے درد بھرے انداز میں بیان کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر ماضی میں ہم نے عقل کی پیروی کر کے اس کا احسان اٹھایا اور اب پھر حالات بدلنے کے لیے تدبیروں کے پیچھے بھاگے، تو اس سے آخر کیا بدل جائے گا؟ یہ دراصل انسان کی اُس بے چارگی کا احساس ہے جہاں تمام تر حکمت عملیاں اور ہوشیاریاں نصیب کے فیصلوں کے آگے ماند پڑ جاتی ہیں۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.