“What if, with betel-red lips, you trace the line of kohl once more? When my blood has already been shed, what if you draw the sword once more?”
پان کھانے کے بعد آنکھوں میں سرمے کی لکیر دوبارہ کھینچنے کا کیا فائدہ؟ جب میرا خون بہہ چکا اور میں مارا جا چکا، تو اب تلوار دوبارہ نکالنے کا کیا حاصل۔
اس شعر میں محبوب کے سنگھار اور ناز و ادا کو ایک جان لیوا ہتھیار کے استعارے میں ڈھالا گیا ہے۔ آنکھوں میں سرمے کی لکیر کھینچنا گویا نیام سے تلوار کھینچنا ہے، اور پان کی سرخی عاشق کے بہے ہوئے خون کی عکاسی کرتی ہے۔ عاشق بڑے درد سے کہتا ہے کہ جب تمہاری کافر نگاہوں نے میرا کام تمام کر ہی دیا ہے، تو اب دوبارہ بن سنور کر تلوار سونتنے کا کیا فائدہ؟ یہ دل کی اس بے بسی اور بربادی کا اظہار ہے جو عشق کے پہلے ہی وار میں فنا ہو چکا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
