کھینچتا تھا پاؤں میرا پہلے ہی زنجیر سے اے جنوں تو نے مری زنجیر پھر کھینچی تو کیا

“My foot was already straining against the chain; / O madness, what of it if you pulled my fetters once again?”

— بہادر شاہ ظفر
معنی

میرا پاؤں تو پہلے ہی زنجیر کے خلاف کھنچ رہا تھا؛ اے جنون، اگر تو نے میری زنجیر دوبارہ کھینچ بھی لی تو کیا ہوا۔

تشریح

کلاسیکی شاعری میں دیوانے عاشق کو اکثر زنجیروں میں جکڑا دکھایا جاتا ہے، لیکن اس کی بے قراری اور تڑپ کبھی تھمتی نہیں ہے۔ شاعر اپنے ہی جنون سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ میرا پاؤں تو پہلے سے اس قید و بند کے خلاف چھٹپٹا رہا تھا۔ اب اگر تم نے آ کر زنجیر کو ذرا اور کھینچ بھی لیا تو کیا فرق پڑتا ہے، کیوں کہ میں تو پہلے ہی عشق کی انتہا پر کھڑا ہوں۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.