“My foot was already straining against the chain; / O madness, what of it if you pulled my fetters once again?”
میرا پاؤں تو پہلے ہی زنجیر کے خلاف کھنچ رہا تھا؛ اے جنون، اگر تو نے میری زنجیر دوبارہ کھینچ بھی لی تو کیا ہوا۔
کلاسیکی شاعری میں دیوانے عاشق کو اکثر زنجیروں میں جکڑا دکھایا جاتا ہے، لیکن اس کی بے قراری اور تڑپ کبھی تھمتی نہیں ہے۔ شاعر اپنے ہی جنون سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ میرا پاؤں تو پہلے سے اس قید و بند کے خلاف چھٹپٹا رہا تھا۔ اب اگر تم نے آ کر زنجیر کو ذرا اور کھینچ بھی لیا تو کیا فرق پڑتا ہے، کیوں کہ میں تو پہلے ہی عشق کی انتہا پر کھڑا ہوں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
