“Rein in the heart's wild bridle right from the very start; What use will pulling later be, O sorrow-stricken heart?”
شروع ہی سے اپنے دل کے اختیار کی لگام تھام لو؛ اے غمزدہ عاشق، اگر بعد میں اسے روکا تو پھر کیا فائدہ ہوگا؟
اس شعر میں شاعر نے دل کو ایک سرکش گھوڑے سے تشبیہ دی ہے جس کی لگام یعنی 'عنانِ اختیار' ابتدا ہی میں مضبوطی سے تھام لینی چاہیے۔ اگر عشق کا سودا سر پر سوار ہو جائے اور دل قابو سے باہر نکل جائے تو بعد میں پچھتانے یا روکنے کی کوشش کا کوئی حاصل نہیں۔ یہ دراصل ایک دل گرفتہ عاشق کے لیے دوست کا مخلصانہ مشورہ ہے کہ تباہی کے راستے پر دور نکلنے سے پہلے ہی خود کو سنبھال لو۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
