“O covetous soul, when gold is not written in your fate, what avails even if you toiled in pursuit of the elixir?”
اے لالچی انسان، جب دولت تیرے نصیب میں ہی نہیں ہے، تو پھر اگر تو نے اکسیر حاصل کرنے کے لیے اتنی محنت و مشقت بھی کی تو اس کا کیا فائدہ؟
شاعر یہاں انسان کے لالچ اور تقدیر کے فیصلے کے درمیان ایک گہری بات بڑے پیار سے سمجھا رہے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ اگر نصیب میں ہی دولت نہیں لکھی، تو خاک کو سونا بنا دینے والے 'اکسیر' کی کھوج میں خود کو ہلکان کرنے سے کیا ملے گا؟ یہ شعر دراصل انسان کو ہوس کی بے جا دوڑ سے روک کر قناعت اور تسلیم و رضا کا راستہ دکھاتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
