“Now raise a cry that truly has some sway upon her heart; / What good, O heart, if once again you breathed a potent sigh?”
اب کوئی ایسی فریاد کر جس کا اس پر اثر ہو؛ اے دل، اگر تو نے دوبارہ کوئی پرتاثیر آہ بھر بھی لی تو اس کا کیا فائدہ ہوگا؟
اس شعر میں شاعر اپنے درماندہ دل سے مخاطب ہو کر ایک گہری بے بسی اور اضطراب کا اظہار کر رہا ہے۔ وہ دل کو جھنجھوڑتا ہے کہ اب ایسی فریاد کر جو محبوب کے دل کو واقعی پگھلا سکے، ورنہ ان نام نہاد پُرتأثیر آہوں کا کیا حاصل جنہوں نے اب تک کوئی اثر نہیں دکھایا۔ یہ شعر محبت کے اس دکھ کو کمال خوبصورتی سے سمیٹتا ہے جہاں عاشق اپنی تمام تر تڑپ کے بے سود رہنے پر ملول ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
