“If the arrow is drawn from my breast, draw the soul from my frame, O Death; / Once that arrow has been pulled out, what use in drawing my breath?”
اے موت! اگر سینے سے وہ تیر نکالا جائے تو اسی وقت میرے جسم سے روح بھی نکال لے، کیونکہ جب وہ تیر نکل ہی گیا تو اس کے بعد جان نکالنے کا کیا فائدہ۔
یہاں عاشق موت یعنی اجل سے بڑی بے باکی اور لطیف طنز کے ساتھ ہم کلام ہے۔ محبوب کا تیر سینے میں اس طرح پیوست ہے کہ وہی اس کے جینے کا سہارا بھی ہے اور زخم بھی۔ شاعر کہتا ہے کہ اگر سینے سے وہ تیر نکالا جائے تو اسی لمحے قالب سے میری روح بھی کھینچ لے، کیونکہ تیر کے نکلتے ہی جب میں خود ہی فنا ہو جاؤں گا تو پھر تیرے جان نکالنے کا کیا لطف باقی رہ جائے گا!
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
