دار ہی پر اس نے کھینچا جب سر بازار عشق لاش بھی میری پئے تشہیر پھر کھینچی تو کیا

“When in love's public square she strung me on the gallows high, what matters if my lifeless corpse was dragged for all to vilify?”

— بہادر شاہ ظفر
معنی

جب محبوب نے سرِ بازارِ عشق مجھے سولی پر چڑھا ہی دیا، تو پھر تشہیر اور رسوائی کے لیے میری لاش کو بھی گھسیٹا تو کیا فرق پڑتا ہے۔

تشریح

اس شعر میں شاعر نے عشق کے کٹھن امتحان، قربانی اور عاشق کی بے نیازی کو نہایت اثر انگیز انداز میں بیان کیا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ جب محبوب نے سرِ عام عشق کے چوک میں مجھے سولی پر لٹکا ہی دیا، تو پھر بعد میں تماشائیوں کے سامنے میری لاش کی تشہیر سے کیا فرق پڑتا ہے۔ یعنی جب محبت میں انسان سب سے بڑی قربانی اور رسوائی پہلے ہی ہنس کر قبول کر لے، تو اس کے بعد دنیا کی کوئی بھی توہین بے اثر ہو جاتی ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.