غزل
نباہ بات کا اس حیلہ گر سے کچھ نہ ہوا
نباہ بات کا اس حیلہ گر سے کچھ نہ ہوا
یہ غزل یک طرفہ محبت کے دکھ اور حیلہ ساز محبوب کی بے وفائی و بے رخی کی عکاسی کرتی ہے۔ عاشق کی تمام تر وفا اور کوششوں کے باوجود محبوب کی سرد مہری اور قسمت کی مجبوری اسے مایوسی اور ناامیدی کے عالم میں مبتلا کر دیتی ہے۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
1
निबाह बात का उस हीला-गर से कुछ न हुआ
इधर से क्या न हुआ पर उधर से कुछ न हुआ
نباہ بات کا اس حیلہ گر سے کچھ نہ ہوا
ادھر سے کیا نہ ہوا پر ادھر سے کچھ نہ ہوا
اس حیلہ ساز کے ساتھ بات نبھانا ممکن نہ ہو سکا؛ میری طرف سے تو سب کچھ کیا گیا، لیکن اس کی طرف سے کچھ بھی نہ ہوا۔
2
जवाब-ए-साफ़ तो लाता अगर न लाता ख़त
लिखा नसीब का जो नामा-बर से कुछ न हुआ
جواب صاف تو لاتا اگر نہ لاتا خط
لکھا نصیب کا جو نامہ بر سے کچھ نہ ہوا
نامہ بر اگر خط نہ بھی لاتا تو کم از کم کوئی صاف جواب تو لے آتا، لیکن یہ میری قسمت کا ہی لکھا تھا کہ اس سے کچھ نہ ہو سکا۔
3
हमेशा फ़ित्ने ही बरपा किए मिरे सर पर
हुआ ये और तो उस फ़ित्ना-गर से कुछ न हुआ
ہمیشہ فتنے ہی برپا کیے مرے سر پر
ہوا یہ اور تو اس فتنہ گر سے کچھ نہ ہوا
اس فتنہ پرداز نے ہمیشہ میرے سر پر مصیبتیں اور ہنگامے ہی کھڑے کیے؛ اس کے سوا اس فتنہ گر سے اور کچھ نہ ہو سکا۔
4
बला से गिर्या-ए-शब तू ही कुछ असर करता
अगरचे इश्क़ में आह-ए-सहर से कुछ न हुआ
بلا سے گریۂ شب تو ہی کچھ اثر کرتا
اگرچہ عشق میں آہ سحر سے کچھ نہ ہوا
اگرچہ عشق میں صبح کی آہ سے کچھ اثر نہ ہوا، کوئی پروا نہیں، مگر کاش رات کے رونے کا ہی کچھ اثر ہو جاتا۔
5
जला जला के किया शम्अ साँ तमाम मुझे
बस और तो मुझे सोज़-ए-जिगर से कुछ न हुआ
جلا جلا کے کیا شمع ساں تمام مجھے
بس اور تو مجھے سوز جگر سے کچھ نہ ہوا
میرے دل کی جلن نے مجھے شمع کی طرح جلا جلا کر پوری طرح ختم کر دیا، اس کے سوا مجھے اس سوزِ جگر سے کچھ حاصل نہ ہوا۔
6
रहीं अदू से वही गर्म-जोशियाँ उस की
इस आह-ए-सर्द और इस चश्म-ए-तर से कुछ न हुआ
رہیں عدو سے وہی گرم جوشیاں اس کی
اس آہ سرد اور اس چشم تر سے کچھ نہ ہوا
دشمن کے ساتھ اس کا وہی پرجوش اور محبت بھرا انداز قائم رہا، میری ٹھنڈی آہوں اور نم آنکھوں سے کچھ حاصل نہ ہوا۔
7
उठाया इश्क़ में क्या क्या न दर्द-ए-सर मैं ने
हुसूल पर मुझे उस दर्द-ए-सर से कुछ न हुआ
اٹھایا عشق میں کیا کیا نہ درد سر میں نے
حصول پر مجھے اس درد سر سے کچھ نہ ہوا
میں نے عشق میں نہ جانے کیسے کیسے دردِ سر اور مصیبتیں جھیلیں، لیکن اسے پا لینے پر بھی اس ساری تکلیف کا کوئی فائدہ یا حاصل نہ ہوا۔
8
शब-ए-विसाल में भी मेरी जान को आराम
अज़ीज़ो दर्द-ए-जुदाई के डर से कुछ न हुआ
شب وصال میں بھی میری جان کو آرام
عزیزو درد جدائی کے ڈر سے کچھ نہ ہوا
محبوب سے ملاپ کی رات بھی میری جان کو کوئی چین نہ مل سکا؛ اے دوستو، جدائی کے درد کے خوف کی وجہ سے مجھے بالکل بھی آرام نصیب نہ ہوا۔
9
न दूँगा दिल उसे मैं ये हमेशा कहता था
वो आज ले ही गया और 'ज़फ़र' से कुछ न हुआ
نہ دوں گا دل اسے میں یہ ہمیشہ کہتا تھا
وہ آج لے ہی گیا اور ظفرؔ سے کچھ نہ ہوا
میں ہمیشہ یہی کہتا تھا کہ اسے اپنا دل کبھی نہیں دوں گا، لیکن آج وہ میرا دل چھین ہی لے گیا اور مجھ ظفر سے کچھ بھی نہ ہو سکا۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
