جلا جلا کے کیا شمع ساں تمام مجھے بس اور تو مجھے سوز جگر سے کچھ نہ ہوا

“Burning and burning like a candle, it consumed me to an end; nothing else, after all, came of this burning in my heart.”

— بہادر شاہ ظفر
معنی

میرے دل کی جلن نے مجھے شمع کی طرح جلا جلا کر پوری طرح ختم کر دیا، اس کے سوا مجھے اس سوزِ جگر سے کچھ حاصل نہ ہوا۔

تشریح

اس شعر میں شاعر اپنے اندر کی تڑپ اور غمِ عشق کا موازنہ ایک جلتی ہوئی شمع سے کرتا ہے، جو گھل گھل کر خود کو مٹا تو لیتی ہے مگر اس کے ہاتھ کچھ نہیں آتا۔ وہ نہایت دل گرفتگی کے ساتھ کہتا ہے کہ اس سوزِ جگر نے مجھے اندر سے راکھ کر دیا، لیکن اس تباہی کے سوا مجھے کوئی حاصل یا راحت نصیب نہ ہوئی۔ یہ اُس عشق کا المیہ ہے جہاں انسان اپنا وجود تک نچھاور کر دے، اور انجام میں صرف فنا ہی مقدر بنے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.