نہ دوں گا دل اسے میں یہ ہمیشہ کہتا تھا وہ آج لے ہی گیا اور ظفرؔ سے کچھ نہ ہوا

“I always swore I would never surrender my heart; yet today they took it anyway, and Zafar could do nothing at all.”

— بہادر شاہ ظفر
معنی

میں ہمیشہ یہی کہتا تھا کہ اسے اپنا دل کبھی نہیں دوں گا، لیکن آج وہ میرا دل چھین ہی لے گیا اور مجھ ظفر سے کچھ بھی نہ ہو سکا۔

تشریح

ظفرؔ اس شعر میں عشق کے روبرو انسان کی دلکش بے بسی کو کمال سادگی سے بیان کر رہے ہیں۔ وہ عمر بھر اپنے دل پر پہرے بٹھاتے رہے اور یہ دعویٰ کرتے رہے کہ کبھی قابو سے باہر نہیں ہوں گے، مگر محبوب کے حسن اور کشش نے پلک جھپکتے میں سب کچھ چھین لیا۔ یہ دل ہارنے پر کوئی نوحہ نہیں، بلکہ محبت کے پرکشش جادو کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کا ایک نہایت پیارا اعتراف ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.