اٹھایا عشق میں کیا کیا نہ درد سر میں نے حصول پر مجھے اس درد سر سے کچھ نہ ہوا

“What endless vexations did I not endure in love's name; yet upon its attainment, from all that trouble, nothing came.”

— بہادر شاہ ظفر
معنی

میں نے عشق میں نہ جانے کیسے کیسے دردِ سر اور مصیبتیں جھیلیں، لیکن اسے پا لینے پر بھی اس ساری تکلیف کا کوئی فائدہ یا حاصل نہ ہوا۔

تشریح

شاعر یہاں محبت کے سفر پر ایک گہری اور تلخ مسکراہٹ کے ساتھ نظر ڈالتے ہیں کہ محبوب کو پانے کے لیے کیا کیا جتن نہ کیے اور کیسی کیسی اذیتیں نہ جھیلیں۔ انسان سمجھتا ہے کہ وصال کے بعد تمام دکھوں کا مداوا ہو جائے گا، مگر مل جانے پر الٹا یہ احساس ہوا کہ اس دردِ سر سے کچھ بھی حاصل نہ ہوا۔ یہ شعر تمناؤں کے اس المیے کو سمیٹتا ہے جہاں منزل پاتے ہی جستجو کا سارا سحر ٹوٹ جاتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.