“If not a letter, he could at least have brought a clear reply; it was my written fate, alas, that the courier achieved nothing.”
نامہ بر اگر خط نہ بھی لاتا تو کم از کم کوئی صاف جواب تو لے آتا، لیکن یہ میری قسمت کا ہی لکھا تھا کہ اس سے کچھ نہ ہو سکا۔
یہاں محبوب کی بے رخی اور بے یقینی کی اذیت کا بڑا دلگداز بیان ہے۔ عاشق کہتا ہے کہ اگر قاصد خط نہیں لا سکا تھا تو کم از کم صاف انکار ہی سن آتا، کیونکہ یہ مبہم خاموشی دل کو اور زیادہ تڑپاتی ہے۔ مگر وہ نامہ بر سے شکوہ کرنے کے بجائے اپنی بدقسمتی کا رونا روتا ہے، جہاں خط کے ’لکھے‘ اور نصیب کے ’لکھے‘ کا تقابل شعر کے درد کو دو آتشہ کر دیتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
