“She only ever raised storms of turmoil upon my head; other than this, that maker of mischief accomplished nothing.”
اس فتنہ پرداز نے ہمیشہ میرے سر پر مصیبتیں اور ہنگامے ہی کھڑے کیے؛ اس کے سوا اس فتنہ گر سے اور کچھ نہ ہو سکا۔
اس شعر میں عاشق اپنے محبوب کی شوخیوں اور اس کے لائے ہوئے ہنگاموں پر ایک بڑا ہی دلکش اور میٹھا شکوہ کر رہا ہے۔ وہ محبوب کو 'فتنہ گر' کہہ کر پکارتا ہے جس نے اس کے سر پر سوائے پریشانیوں اور طوفانوں کے کبھی کچھ اور برپا نہیں کیا۔ طنز اور لاڈ بھرے اس انداز کے پیچھے اصل میں بے بسی کا اعتراف ہے، کہ محبوب نے چاہے سکھ نہ بخشا ہو مگر اس کی دی ہوئی بے چینی بھی دل کو اس کی یاد سے جدا نہیں ہونے دیتی۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
