“With that master of excuses, keeping faith could not be won; from my side, what was left unoffered? Yet from that side, nothing was done.”
اس حیلہ ساز کے ساتھ بات نبھانا ممکن نہ ہو سکا؛ میری طرف سے تو سب کچھ کیا گیا، لیکن اس کی طرف سے کچھ بھی نہ ہوا۔
یہ شعر یک طرفہ محبت اور اس کی بے بسی کی ایک دل گداز تصویر کشی کرتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ اس نے عہد نبھانے اور تعلق کو قائم رکھنے کے لیے اپنی طرف سے جان تک لڑا دی، مگر سامنے والا صرف بہانے ہی تراشتا رہا۔ جب ساری قربانیاں ایک ہی طرف سے ہوں اور دوسری طرف سے مکمل بے رخی ملے، تو انسان کی روح کس قدر ٹوٹتی ہے، یہ شعر اسی خاموش المیے کی عکاسی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
