رہیں عدو سے وہی گرم جوشیاں اس کی اس آہ سرد اور اس چشم تر سے کچھ نہ ہوا

“Toward the rival, her ardent warmth remained unchanged; from this cold sigh and this weeping eye, nothing was gained.”

— بہادر شاہ ظفر
معنی

دشمن کے ساتھ اس کا وہی پرجوش اور محبت بھرا انداز قائم رہا، میری ٹھنڈی آہوں اور نم آنکھوں سے کچھ حاصل نہ ہوا۔

تشریح

اس شعر میں عاشق اپنی بے بسی اور دل کی گہری چوٹ کا نوحہ کر رہا ہے۔ اس نے محبوب کو پانے اور پگھلانے کے لیے ٹھنڈی آہیں بھریں اور خون کے آنسو روئے، مگر محبوب کے دل پر کوئی اثر نہ ہوا۔ المیہ یہ ہے کہ ایک طرف عاشق کی آہوں اور اشکوں کی بے ثباتی ہے، تو دوسری طرف رقیب کے لیے محبوب کی گرم جوشی اور التفات پہلے کی طرح برقرار ہے، جس سے اس کی بے حسی اور عاشق کی محرومی کھل کر سامنے آتی ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.