بلا سے گریۂ شب تو ہی کچھ اثر کرتا اگرچہ عشق میں آہ سحر سے کچھ نہ ہوا

“Though in love the sigh of dawn bore no fruit at all, so be it—if only you, weeping of the night, had left some mark!”

— بہادر شاہ ظفر
معنی

اگرچہ عشق میں صبح کی آہ سے کچھ اثر نہ ہوا، کوئی پروا نہیں، مگر کاش رات کے رونے کا ہی کچھ اثر ہو جاتا۔

تشریح

اردو شاعری میں 'آہِ سحر' یعنی صبح کے وقت دل سے نکلی پکار کو سب سے زیادہ پُرتاثیر مانا جاتا ہے۔ مگر عاشق کی بے بسی دیکھیے کہ وہ کہتا ہے، چلو صبح کی فریاد رائیگاں گئی تو کوئی بات نہیں، کاش رات کے سناٹے میں بہے ہوئے آنسو ہی محبوب کے دل پر کوئی اثر چھوڑ جاتے۔ اس شعر میں محبوب کی بے رخی اور عاشق کی مسلسل ناکامی کا درد نہایت خوبصورت اور دلسوز انداز میں بیان ہوا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.