“Even on the night of union, my soul could find no peace; O friends, dread of the pain of parting granted no release.”
محبوب سے ملاپ کی رات بھی میری جان کو کوئی چین نہ مل سکا؛ اے دوستو، جدائی کے درد کے خوف کی وجہ سے مجھے بالکل بھی آرام نصیب نہ ہوا۔
یہ شعر محبت کی ایک بڑی دردناک کشمکش کی تصویر کشی کرتا ہے۔ محبوب کے ساتھ وصال کی رات، جسے سب سے پُرسکون لمحہ ہونا چاہیے تھا، وہ بھی عاشق کے بے چین دل کو قرار نہ دے سکی۔ آنے والی جدائی اور فراق کے خوف نے ملن کے اس سب سے خوبصورت لمحے کا سارا سکھ اور چین پہلے ہی چھین لیا تھا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
