غزل
نہ اس کا بھید یاری سے نہ عیاری سے ہاتھ آیا
نہ اس کا بھید یاری سے نہ عیاری سے ہاتھ آیا
اس غزل میں یہ نکتہ واضح کیا گیا ہے کہ حقیقت اور معرفت کا بھید عیاری یا سطحی تعلقات سے نہیں، بلکہ دل کی بیداری اور باطنی آگہی سے نصیب ہوتا ہے۔ شاعر کے نزدیک حتمی منزل کو پانے کے لیے ہوش مندی، ہوشیاری اور مسلسل قلبی توجہ ناگزیر ہے۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
1
न उस का भेद यारी से न अय्यारी से हाथ आया
ख़ुदा आगाह है दिल की ख़बरदारी से हाथ आया
نہ اس کا بھید یاری سے نہ عیاری سے ہاتھ آیا
خدا آگاہ ہے دل کی خبرداری سے ہاتھ آیا
اس کا راز نہ تو دوستی سے معلوم ہوا اور نہ ہوشیاری یا مکاری سے ملا؛ خدا گواہ ہے کہ وہ صرف دل کی بیداری اور چوکسی سے حاصل ہوا۔
2
न हों जिन के ठिकाने होश वो मंज़िल को क्या पहुँचे
कि रस्ता हाथ आया जिस की हुश्यारी से हाथ आया
نہ ہوں جن کے ٹھکانے ہوش وہ منزل کو کیا پہنچے
کہ رستہ ہاتھ آیا جس کی ہشیاری سے ہاتھ آیا
جن کے ہوش و حواس ٹھکانے نہ ہوں وہ منزل تک نہیں پہنچ سکتے، کیونکہ جس کسی کو بھی راستہ ملا ہے وہ اس کی ہوشیاری اور عقل کی بدولت ہی ملا ہے۔
3
हुआ हक़ में हमारे क्यूँ सितमगर आसमाँ इतना
कोई पूछे कि ज़ालिम क्या सितमगारी से हाथ आया
ہوا حق میں ہمارے کیوں ستم گر آسماں اتنا
کوئی پوچھے کہ ظالم کیا ستم گاری سے ہاتھ آیا
آسمان ہمارے حق میں اتنا ستم گر کیوں ہو گیا؟ کوئی اس ظالم سے پوچھے کہ آخر اس ظلم و ستم سے اسے کیا حاصل ہوا۔
4
अगरचे माल-ए-दुनिया हाथ भी आया हरीसों के
तो देखा हम ने किस किस ज़िल्लत-ओ-ख़्वारी से हाथ आया
اگرچہ مال دنیا ہاتھ بھی آیا حریصوں کے
تو دیکھا ہم نے کس کس ذلت و خواری سے ہاتھ آیا
اگرچہ لالچی لوگوں کو دنیا کی دولت مل بھی گئی، لیکن ہم نے دیکھا کہ وہ انہیں کس قدر ذلت اور رسوائی کے بعد حاصل ہوئی۔
5
न कर ज़ालिम दिल-आज़ारी जो ये दिल मंज़ूर है लेना
किसी का दिल जो हाथ आया तो दिलदारी से हाथ आया
نہ کر ظالم دل آزاری جو یہ دل منظور ہے لینا
کسی کا دل جو ہاتھ آیا تو دل داری سے ہاتھ آیا
اے ظالم! اگر تجھے یہ دل حاصل کرنا منظور ہے تو اس کا دل مت دکھا۔ کسی کا دل اگر ہاتھ آیا ہے تو وہ صرف دلجوئی اور محبت سے ہی ہاتھ آیا ہے۔
6
अगरचे ख़ाकसारी कीमिया का सहल नुस्ख़ा है
व-लेकिन हाथ आया जिस के दुश्वारी से हाथ आया
اگرچہ خاکساری کیمیا کا سہل نسخہ ہے
ولیکن ہاتھ آیا جس کے دشواری سے ہاتھ آیا
اگرچہ عاجزی و خاکساری کیمیا گری کا ایک آسان نسخہ ہے، لیکن یہ جس کو بھی حاصل ہوئی، بڑی مشکل اور محنت سے حاصل ہوئی۔
7
हुई हरगिज़ न तेरे चश्म के बीमार को सेह्हत
न जब तक ज़हर तेरे ख़त्त-ए-ज़ंगारी से हाथ आया
ہوئی ہرگز نہ تیرے چشم کے بیمار کو صحت
نہ جب تک زہر تیرے خط زنگاری سے ہاتھ آیا
تیری آنکھوں کا بیمار تب تک کبھی صحت یاب نہ ہوا، جب تک کہ اسے تیرے رخسار کے سبز خط سے زہر نہ مل گیا۔
8
कोई ये वहशी-ए-रम-दीदा तेरे हाथ आया था
पर ऐ सय्याद-वश दिल की गिरफ़्तारी से हाथ आया
کوئی یہ وحشیٔ رم دیدہ تیرے ہاتھ آیا تھا
پر اے صیادوش دل کی گرفتاری سے ہاتھ آیا
کیا کبھی ایسا بھاگنے والا وحشی جانور تیرے قابو میں آیا تھا؟ لیکن اے شکاری صفت محبوب، وہ فقط اپنے دل کے گرفتار ہو جانے کے سبب تیرے ہاتھ آیا۔
9
'ज़फ़र' जो दो जहाँ में गौहर-ए-मक़्सूद था अपना
जनाब-ए-फ़ख़्र-ए-दीं की वो मदद-गारी से हाथ आया
ظفرؔ جو دو جہاں میں گوہر مقصود تھا اپنا
جناب فخر دیں کی وہ مددگاری سے ہاتھ آیا
اے ظفر، دونوں جہانوں میں جو میرا گوہرِ مقصود تھا، وہ حضرت فخر الدین کی مدد اور عنایت سے مجھے حاصل ہوا۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
