ہوا حق میں ہمارے کیوں ستم گر آسماں اتنا کوئی پوچھے کہ ظالم کیا ستم گاری سے ہاتھ آیا

“Why did the heavens turn so cruel against my humble fate? / Will someone ask the tyrant what this torment gained?”

— بہادر شاہ ظفر
معنی

آسمان ہمارے حق میں اتنا ستم گر کیوں ہو گیا؟ کوئی اس ظالم سے پوچھے کہ آخر اس ظلم و ستم سے اسے کیا حاصل ہوا۔

تشریح

کلاسیکی اردو شاعری میں آسمان کو اکثر سنگ دل تقدیر کا استعارہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے جو انسان کو آزمائشوں میں ڈالتی ہے۔ شاعر یہاں فقط اپنی مظلومیت کا رونا نہیں رو رہا، بلکہ گردشِ دوراں سے ایک تیکھا سوال پوچھتا ہے کہ آخر ایک خاک نشیں کو برباد کر کے تجھے کیا حاصل ہو گیا؟ اس شعر میں لاچاری کے ساتھ ساتھ ایک پُروقار احتجاج ہے، جو ظلم کی بے معنویت پر گہری چوٹ کرتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.