“O Zafar, that cherished pearl of my desire across both worlds was attained at last through the gracious aid of Lord Fakhr-ud-Din.”
اے ظفر، دونوں جہانوں میں جو میرا گوہرِ مقصود تھا، وہ حضرت فخر الدین کی مدد اور عنایت سے مجھے حاصل ہوا۔
اس پرتاثیر شعر میں ظفرؔ اپنی زندگی اور آخرت کی سب سے بڑی تمنا کو 'گوہرِ مقصود' قرار دیتے ہوئے نہایت عقیدت کا اظہار کر رہے ہیں۔ وہ بڑی عاجزی سے بیان کرتے ہیں کہ یہ انمول روحانی خزانہ ان کے اپنے بل بوتے پر نہیں، بلکہ ان کے مرشدِ کامل حضرت مولانا فخر الدینؒ کی نگاہِ کرم اور رہنمائی کی بدولت ہاتھ آیا ہے۔ یہ شعر ایک سچے مرید کی اپنے پیر کے تئیں بے لوث محبت، شکر گزاری اور تسلیم و رضا کی عمدہ تصویر کشی کرتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
