“Nor through friendship nor by cunning was that secret attained; God is witness, only through the heart's vigilance was it gained.”
اس کا راز نہ تو دوستی سے معلوم ہوا اور نہ ہوشیاری یا مکاری سے ملا؛ خدا گواہ ہے کہ وہ صرف دل کی بیداری اور چوکسی سے حاصل ہوا۔
اس شعر میں شاعر فرماتے ہیں کہ محبوب یا حقیقتِ حق کا گہرا بھید نہ تو محض ظاہری تعلق سے کھلا اور نہ ہی کسی عیاری و ہوشیاری سے حاصل ہو سکا۔ خدا گواہ ہے کہ یہ راز صرف دل کی بیداری، باطنی ہوش مندی اور نگہبانی کے طفیل ہی نصیب ہوا۔ دراصل شاعر یہ بتانا چاہتے ہیں کہ کائنات کی گہری سچائیاں عقل کی چالاکیوں سے نہیں، بلکہ جاگتے ہوئے دل کے نور سے سمجھی جاتی ہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
