“How can those bereft of wits ever reach their goal? Whoever found the path, found it through vigilance alone.”
جن کے ہوش و حواس ٹھکانے نہ ہوں وہ منزل تک نہیں پہنچ سکتے، کیونکہ جس کسی کو بھی راستہ ملا ہے وہ اس کی ہوشیاری اور عقل کی بدولت ہی ملا ہے۔
یہ شعر ہمیں سکھاتا ہے کہ زندگی یا عشق کے سفر میں منزل پانے کے لیے ہوش و خرد اور مسلسل بیداری بےحد ضروری ہے۔ شاعر کا کہنا ہے کہ راستے کی الجھنیں صرف انہی پر کھلتی ہیں جن کے حواس ٹھکانے پر ہوں اور جو پوری دانشمندی سے قدم بڑھائیں۔ غفلت میں ڈوبے ہوئے مسافر ہمیشہ بھٹکتے رہ جاتے ہیں، کیونکہ کامیابی کا رستہ صرف چوکس رہنے والوں ہی کے ہاتھ آتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
