“Though the greedy did amass the riches of this world, we saw through what depths of shame and humiliation they were won.”
اگرچہ لالچی لوگوں کو دنیا کی دولت مل بھی گئی، لیکن ہم نے دیکھا کہ وہ انہیں کس قدر ذلت اور رسوائی کے بعد حاصل ہوئی۔
یہ شعر حرص و ہوس اور دنیاوی دولت کے پیچھے بھاگنے والوں کی عبرت ناک تصویر دکھاتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ لالچی لوگوں کو مال و زر تو حاصل ہو جاتا ہے، مگر اس کی خاطر وہ اپنی عزتِ نفس اور وقار کا سودا کر بیٹھتے ہیں۔ ایسی دولت جو رسوائی اور ذلت مول لے کر ہاتھ آئے، وہ درحقیقت کوئی کامیابی نہیں بلکہ روح کی بدترین شکست ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
