کوئی یہ وحشیٔ رم دیدہ تیرے ہاتھ آیا تھا پر اے صیادوش دل کی گرفتاری سے ہاتھ آیا

“Did ever such a flight-shy, wild creature fall into your hands? Yet, O hunter-like beloved, it was captured only through the heart's captivity.”

— بہادر شاہ ظفر
معنی

کیا کبھی ایسا بھاگنے والا وحشی جانور تیرے قابو میں آیا تھا؟ لیکن اے شکاری صفت محبوب، وہ فقط اپنے دل کے گرفتار ہو جانے کے سبب تیرے ہاتھ آیا۔

تشریح

شاعر یہاں خود کو ایک ایسے وحشی اور بدکے ہوئے ہرن سے تشبیہ دے رہا ہے جو کسی بھی صیاد کے دام میں آسانی سے نہیں آ سکتا تھا۔ مگر وہ اپنے شکاری صفت محبوب سے کہتا ہے کہ تو نے مجھے کسی زبردستی یا جال کے بل پر قابو نہیں کیا، بلکہ میرا دل خود تیری کشش کا اسیر ہو گیا۔ یہ شعر اس کیفیت کی خوبصورت عکاسی کرتا ہے جہاں ایک آزاد اور سرکش روح بھی محبت کے سامنے خوشی سے خود سپردگی کر دیتی ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.