ہوئی ہرگز نہ تیرے چشم کے بیمار کو صحت نہ جب تک زہر تیرے خط زنگاری سے ہاتھ آیا

“Never did the one struck ill by your languid eye find any cure or peace, / Until the poison from the verdigris down of your cheek granted sweet release.”

— بہادر شاہ ظفر
معنی

تیری آنکھوں کا بیمار تب تک کبھی صحت یاب نہ ہوا، جب تک کہ اسے تیرے رخسار کے سبز خط سے زہر نہ مل گیا۔

تشریح

شاعر نے یہاں عشق کی لاعلاج بیماری اور اس کے انوکھے تریاق کو بڑے دلکش انداز میں بیان کیا ہے۔ محبوب کی مخمور آنکھوں کا گھائل عاشق کسی عام دوا سے صحت یاب نہیں ہو سکتا تھا، جب تک کہ اس نے محبوب کے 'خطِ زنگاری' یعنی چہرے کے تازہ روئیں کا زہر نہ چکھ لیا، جسے تانبے کے سبز زنگ نما زہر سے تشبیہ دی گئی ہے۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ محبت کے روگ کا مداوا کسی دنیاوی شفا میں نہیں، بلکہ محبوب کے جلوؤں میں خود کو فنا کر دینے ہی میں ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.