غزل

ہم نے تری خاطر سے دل زار بھی چھوڑا

ہم نے تری خاطر سے دل زار بھی چھوڑا
بہادر شاہ ظفر· Ghazal· 9 shers· radif: भी छोड़ा

یہ غزل یک طرفہ محبت کے گہرے ملال، بے وفائی اور قربانیوں کے احساسِ زیاں کی عکاسی کرتی ہے۔ عاشق نے محبوب کی خاطر دل اور دیگر تعلقات سب کچھ چھوڑ دیے، مگر بدلے میں اسے جنون اور سراسر بربادی کے سوا کچھ حاصل نہ ہوا۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
رسم الخط
1
हम ने तिरी ख़ातिर से दिल-ए-ज़ार भी छोड़ा तू भी न हुआ यार और इक यार भी छोड़ा
ہم نے تری خاطر سے دل زار بھی چھوڑا تو بھی نہ ہوا یار اور اک یار بھی چھوڑا
ہم نے تمہاری خاطر اپنے دکھی دل کو بھی چھوڑ دیا، مگر تم بھی ہمارے دوست نہ بنے اور ہم نے ایک دوست کو بھی کھو دیا۔
2
क्या होगा रफ़ूगर से रफ़ू मेरा गरेबान ऐ दस्त-ए-जुनूँ तू ने नहीं तार भी छोड़ा
کیا ہوگا رفوگر سے رفو میرا گریبان اے دست جنوں تو نے نہیں تار بھی چھوڑا
رفوگر میرے چاک گریبان کو کیسے سی پائے گا، کیونکہ اے جنون کے ہاتھ، تو نے تو اس میں ایک دھاگا بھی باقی نہیں چھوڑا ہے۔
3
दीं दे के गया कुफ़्र के भी काम से आशिक़ तस्बीह के साथ उस ने तो ज़ुन्नार भी छोड़ा
دیں دے کے گیا کفر کے بھی کام سے عاشق تسبیح کے ساتھ اس نے تو زنار بھی چھوڑا
عاشق اپنا دین چھوڑ کر کفر کے بھی کسی کام کا نہ رہا؛ اس نے تسبیح چھوڑنے کے ساتھ ساتھ زنار بھی ترک کر دیا۔
4
गोशे में तिरी चश्म-ए-सियह-मस्त के दिल ने की जब से जगह ख़ाना-ए-ख़ु़म्मार भी छोड़ा
گوشہ میں تری چشم سیہ مست کے دل نے کی جب سے جگہ خانۂ خمار بھی چھوڑا
جب سے میرے دل نے تمہاری سیاہ اور مست آنکھوں کے کونے میں بسیرا کیا ہے، تب سے اس نے شراب خانے جانا بھی چھوڑ دیا ہے۔
5
इस से है ग़रीबों को तसल्ली कि अजल ने मुफ़्लिस को जो मारा तो न ज़रदार भी छोड़ा
اس سے ہے غریبوں کو تسلی کہ اجل نے مفلس کو جو مارا تو نہ زردار بھی چھوڑا
غریبوں کو اس بات سے تسلی ہے کہ موت نے اگر مفلس اور نادار کو مارا تو کسی دولت مند کو بھی نہیں بخشا۔
6
टेढ़े न हो हम से रखो इख़्लास तो सीधा तुम प्यार से रुकते हो तो लो प्यार भी छोड़ा
ٹیڑھے نہ ہو ہم سے رکھو اخلاص تو سیدھا تم پیار سے رکتے ہو تو لو پیار بھی چھوڑا
ہم سے ٹیڑھا برتاؤ مت کرو اور اپنا خلوص سیدھا رکھو۔ اگر تم محبت کی وجہ سے رکتے ہو، تو لو ہم نے محبت کرنا بھی چھوڑ دیا۔
7
क्या छोड़ें असीरान-ए-मोहब्बत को वो जिस ने सदक़े में न इक मुर्ग़-ए-गिरफ़्तार भी छोड़ा
کیا چھوڑیں اسیران محبت کو وہ جس نے صدقے میں نہ اک مرغ گرفتار بھی چھوڑا
8
पहुँची मिरी रुस्वाई की क्यूँकर ख़बर उस को उस शोख़ ने तो देखना अख़बार भी छोड़ा
پہنچی مری رسوائی کی کیونکر خبر اس کو اس شوخ نے تو دیکھنا اخبار بھی چھوڑا
9
करता था जो याँ आने का झूटा कभी इक़रार मुद्दत से 'ज़फ़र' उस ने वो इक़रार भी छोड़ा
کرتا تھا جو یاں آنے کا جھوٹا کبھی اقرار مدت سے ظفرؔ اس نے وہ اقرار بھی چھوڑا
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.