“Having surrendered faith, the lover was useless even to heresy; along with the rosary, he cast away the sacred thread as well.”
عاشق اپنا دین چھوڑ کر کفر کے بھی کسی کام کا نہ رہا؛ اس نے تسبیح چھوڑنے کے ساتھ ساتھ زنار بھی ترک کر دیا۔
اس شعر میں شاعر عشق کی اس بے خودی کا نقشہ کھینچتا ہے جو انسان کو ہر روایتی شناخت سے بے نیاز کر دیتی ہے۔ عاشق نے دین چھوڑا تو گمان ہوا کہ شاید وہ کفر کی پناہ لے گا، مگر اس نے تسبیح کے ساتھ زنار بھی اتار پھینکا۔ سچے عشق کا کمال یہی ہے کہ وہ عاشق کو کفر و ایماں اور رسم و رواج کے تمام بندھنوں سے آزاد کر کے مکمل فنا کے مقام پر لا کھڑا کرتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
