“Be not contrary with me, keep your sincerity straight and true; if love is what makes you hold back, then see, I renounce love too.”
ہم سے ٹیڑھا برتاؤ مت کرو اور اپنا خلوص سیدھا رکھو۔ اگر تم محبت کی وجہ سے رکتے ہو، تو لو ہم نے محبت کرنا بھی چھوڑ دیا۔
اس شعر میں شاعر محبوب کی کج ادائی اور بے جا تکلف سے بیزار ہو کر سیدھی سچی بات کی تمنا کر رہا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ہمارے ساتھ بناوٹ اور ترچھا پن برتنے کی ضرورت نہیں، جو کچھ بھی ہے کھلے دل اور سچے خلوص کے ساتھ سامنے لاؤ۔ اس میں عاشق کی خودداری اور ہلکی سی خفگی جھلکتی ہے کہ اگر 'محبت' کا نام ہی تعلق میں رکاوٹ بن رہا ہے، تو ہم اس محبت کا دعویٰ بھی واپس لیتے ہیں، بس دل میں کھوٹ اور الجھن نہ رکھو۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
