“How could the darner ever mend the collar of my robe? O hand of frenzy, you have left not even a single thread!”
رفوگر میرے چاک گریبان کو کیسے سی پائے گا، کیونکہ اے جنون کے ہاتھ، تو نے تو اس میں ایک دھاگا بھی باقی نہیں چھوڑا ہے۔
اردو شاعری میں چاکِ گریبان دیوانگی اور شدتِ جذبات کی علامت ہے، اور رفوگر سے مراد وہ چارہ گر یا ہمدرد ہے جو زخموں کو سینا چاہتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ جنون کے ہاتھوں بکھراؤ اس انتہا کو پہنچ چکا ہے کہ گریبان میں ایک دھاگہ تک باقی نہیں بچا جسے جوڑا جا سکے۔ یہ شعر دراصل اس مکمل اور لا علاج کیفیت کی تصویر ہے جہاں دل اس قدر ٹوٹ چکا ہو کہ اب کسی بحالی یا تسلی کی گنجائش ہی نہ رہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
