“For your sake, I surrendered even my weeping heart; you never became my beloved, and I lost a friend as well.”
ہم نے تمہاری خاطر اپنے دکھی دل کو بھی چھوڑ دیا، مگر تم بھی ہمارے دوست نہ بنے اور ہم نے ایک دوست کو بھی کھو دیا۔
اس شعر میں بے لوث قربانی اور یکطرفہ محبت کا گہرا ملال چھپا ہوا ہے۔ محبوب کو اپنانے کی تمنا میں عاشق نے نہ صرف اپنے تڑپتے ہوئے دل کو فراموش کر دیا، بلکہ اس کی خاطر ایک مخلص دوست کو بھی چھوڑ دیا۔ ستم ظریفی یہ ہوئی کہ محبوب نے وفا نہ کی اور اس خواب کے پیچھے بھاگتے ہوئے وہ قیمتی رشتہ بھی ہمیشہ کے لیے ہاتھ سے نکل گیا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
