“The one who once made false promises of coming near, Has now, O Zafar, long abandoned even that pledge dear.”
جو شخص کبھی یہاں آنے کا جھوٹا وعدہ بھی کر لیا کرتا تھا، اے ظفر، اس نے ایک طویل عرصے سے وہ وعدہ کرنا بھی چھوڑ دیا ہے۔
بہادر شاہ ظفرؔ اس شعر میں بے رخی اور اداسی کے اس مقام کا ذکر کر رہے ہیں جہاں انسان جھوٹی تسلی کو بھی ترستا ہے۔ ایک وقت تھا کہ محبوب ملنے کا جھوٹا ہی سہی، وعدہ تو کر لیتا تھا اور عاشق اسی بہانے جی لیا کرتا تھا۔ مگر اب تو لاتعلقی اس حد کو پہنچ چکی ہے کہ وہ جھوٹا اقرار بھی چھین لیا گیا ہے، اور پیچھے بس ایک سونی خاموشی رہ گئی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
