“How would she ever free the captives of love, she who did not release even a single caged bird in charity?”
وہ بھلا محبت کے قیدیوں کو کیا رہا کرے گی، جس نے صدقے کے طور پر بھی کسی ایک قید پرندے کو آزاد نہیں کیا۔
اس شعر میں عاشق اپنے محبوب کی بے اعتنائی اور بے رحمی کا شکوہ بڑے دل نشین انداز میں کر رہا ہے۔ روایت ہے کہ بلائیں ٹالنے کے لیے بطور صدقہ کسی قیدی پرندے کو آزاد کیا جاتا ہے، لیکن محبوب نے تو کبھی ثواب کی خاطر بھی کسی پرندے کو پنجرے سے رہائی نہیں دی۔ جب اُس کا دل ایک بے زبان پرندے کے لیے بھی نرم نہیں ہوتا، تو محبت کے دام میں گرفتار عشاق بھلا اُس سے رہائی کی کیا اُمید رکھ سکتے ہیں؟
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
