“Ever since my heart made its home in the corner of your dark, intoxicated eyes, it has forsaken even the vintner's tavern.”
جب سے میرے دل نے تمہاری سیاہ اور مست آنکھوں کے کونے میں بسیرا کیا ہے، تب سے اس نے شراب خانے جانا بھی چھوڑ دیا ہے۔
شاعر یہاں محبوب کی نشیلی، سیاہ آنکھوں کی دلکشی کا بڑا پُرلطف نقشہ کھینچتا ہے۔ دل نے جب سے ان مست نگاہوں کے گوشے میں اپنا بسیرا کر لیا ہے، تب سے اس نے مے خانے کا رخ کرنا ہی چھوڑ دیا ہے۔ محبوب کی ایک نظر میں اتنا گہرا سرور ہے کہ اس کے سامنے دنیا کی بہترین شراب بھی بے اثر اور بے معنی ہو جاتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
