“How could the news of my disgrace have reached her after all, / When that playful beloved had even stopped reading the news?”
میری بدنامی کی خبر آخر اس تک کیسے پہنچی، جبکہ اس شوخ محبوب نے تو اخبار پڑھنا بھی چھوڑ دیا تھا۔
اس شعر میں بڑی دلکش ظرافت اور شوخی پائی جاتی ہے۔ عاشق حیران ہو کر پوچھتا ہے کہ اس کے عشق اور رسوائی کی خبر محبوب تک آخر کیسے پہنچی، جب کہ اس نے تو دنیا جہاں سے بے نیاز ہو کر اخبار تک پڑھنا چھوڑ دیا تھا! اصل لطف اس بات میں ہے کہ دل کی خبریں اور چاہت کے قصے کسی اخبار کے محتاج نہیں ہوتے؛ محبوب خواہ کتنی ہی لاتعلقی ظاہر کرے، عاشق کا ہر حال کسی نہ کسی طرح اس تک پہنچ ہی جاتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
