غزل

ہے دل کو جو یاد آئی فلک پیر کسی کی

ہے دل کو جو یاد آئی فلک پیر کسی کی
بہادر شاہ ظفر· Ghazal· 9 shers· radif: किसी की

یہ غزل ہجر و فراق کے گہرے درد اور محبوب کی دائمی یادوں کی عکاسی کرتی ہے۔ شاعر کو ملال ہے کہ اشک باری اور نالہ و فغاں کے باوجود سنگ دل محبوب کے دل پر ذرا بھی اثر نہیں ہوتا۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
رسم الخط
1
है दिल को जो याद आई फ़लक-ए-पीर किसी की आँखों के तले फिरती है तस्वीर किसी की
ہے دل کو جو یاد آئی فلک پیر کسی کی آنکھوں کے تلے پھرتی ہے تصویر کسی کی
اے بوڑھے آسمان! دل کو جیسے ہی کسی کی یاد آئی ہے، آنکھوں کے سامنے اسی کی تصویر گھومنے لگی ہے۔
2
गिर्या भी है नाला भी है और आह-ओ-फ़ुग़ाँ भी पर दिल में हुई उस के न तासीर किसी की
گریہ بھی ہے نالہ بھی ہے اور آہ و فغاں بھی پر دل میں ہوئی اس کے نہ تاثیر کسی کی
رونا بھی ہے، فریاد بھی ہے اور آہ و زاری بھی، مگر ان میں سے کسی چیز کا بھی اس کے دل پر کوئی اثر نہ ہوا۔
3
हाथ आए है क्या ख़ाक तिरे ख़ाक-ए-कफ़-ए-पा जब तक कि न क़िस्मत में हो इक्सीर किसी की
ہاتھ آئے ہے کیا خاک ترے خاک کف پا جب تک کہ نہ قسمت میں ہو اکسیر کسی کی
تمہارے قدموں کی دھول کسی کے ہاتھ کیسے آ سکتی ہے، جب تک کہ کسی کی قسمت میں اکسیر نہ لکھی ہو۔
4
यारो वो है बिगड़ा हुआ बातें न बनाओ कुछ पेश नहीं जाने की तक़रीर किसी की
یارو وہ ہے بگڑا ہوا باتیں نہ بناؤ کچھ پیش نہیں جانے کی تقریر کسی کی
دوستو! وہ ناراض ہے، اس لیے بہانے مت بناؤ؛ اس وقت اس کے سامنے کسی کی بھی بات یا تقریر کام نہیں آنے والی۔
5
नाज़ाँ न हो मुनइ'म कि जहाँ तेरा महल है होवेगी यहाँ पहले भी ता'मीर किसी की
نازاں نہ ہو منعم کہ جہاں تیرا محل ہے ہووے گی یہاں پہلے بھی تعمیر کسی کی
اے دولت مند! اپنے محل پر غرور مت کر، کیونکہ جہاں آج تیرا محل ہے، وہاں پہلے بھی کسی کی عمارت رہی ہوگی۔
6
मेरी गिरह-ए-दिल न खुली है न खुलेगी जब तक न खुले ज़ुल्फ़-ए-गिरह-गीर किसी की
میری گرہ دل نہ کھلی ہے نہ کھلے گی جب تک نہ کھلے زلف گرہ گیر کسی کی
میرے دل کی گرہ نہ کھلی ہے اور نہ کھلے گی، جب تک کہ کسی کی الجھی ہوئی زلفیں نہ کھل جائیں۔
7
आता भी अगर है तो वो फिर जाए है उल्टा जिस वक़्त उलट जाए है तक़दीर किसी की
آتا بھی اگر ہے تو وہ پھر جائے ہے الٹا جس وقت الٹ جائے ہے تقدیر کسی کی
جب کسی کی تقدیر الٹ جاتی ہے، تو اگر کوئی آتا بھی ہے تو وہ الٹے پاؤں واپس لوٹ جاتا ہے۔
8
इस अबरू ओ मिज़्गाँ से 'ज़फ़र' तेज़ ज़ियादा ख़ंजर न किसी का है न शमशीर किसी की
اس ابرو و مژگاں سے ظفرؔ تیز زیادہ خنجر نہ کسی کا ہے نہ شمشیر کسی کی
اے ظفر! محبوب کی بھنوؤں اور پلکوں سے زیادہ تیز نہ تو کسی کا خنجر ہے اور نہ ہی کسی کی تلوار۔
9
जो दिल से उधर जाए नज़र दिल हो गिरफ़्तार मुजरिम हो कोई और हो तक़्सीर किसी की
جو دل سے ادھر جائے نظر دل ہو گرفتار مجرم ہو کوئی اور ہو تقصیر کسی کی
اگر نگاہ اس طرف چلی جائے تو دل گرفتار ہو جاتا ہے؛ یعنی جرم کوئی اور (آنکھیں) کرے اور اس کا قصور وار کسی اور (دل) کو ٹھہرایا جائے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.