“O ancient sky, as the heart calls to mind someone once known, before my very eyes drifts the portrait of that someone.”
اے بوڑھے آسمان! دل کو جیسے ہی کسی کی یاد آئی ہے، آنکھوں کے سامنے اسی کی تصویر گھومنے لگی ہے۔
شاعر یہاں 'فلکِ پیر' یعنی آسمانِ کہن کو مخاطب کر کے اپنے دل کی پُردرد کیفیت بیان کر رہا ہے، جو وقت اور گردشِ زمانہ کی علامت ہے۔ جب دل میں اچانک کسی بچھڑے ہوئے محبوب کی یاد جاگتی ہے تو وہ محض ایک خیال بن کر نہیں رہتی، بلکہ اس کا چہرہ ایک زندہ تصویر بن کر نگاہوں کے تلے گھومنے لگتا ہے۔ یہ شعر یادوں کے اس جادوئی اور اثر انگیز لمحے کی عکاسی کرتا ہے جہاں جدائی کے باوجود محبوب کا سراپا نظروں میں اتر آتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
