“O friends, the beloved is enraged, spin no clever tales; against such wrath, no one's pleading speech avails.”
دوستو! وہ ناراض ہے، اس لیے بہانے مت بناؤ؛ اس وقت اس کے سامنے کسی کی بھی بات یا تقریر کام نہیں آنے والی۔
اس شعر میں عاشق اپنے مخلص دوستوں کو سمجھا رہا ہے کہ محبوب اس وقت شدید خفا ہے، اس لیے کوئی بات بنانے یا بہانہ تراشنے کی فضول کوشش مت کرو۔ جب نازنین کا غصہ اپنے عروج پر ہو تو کسی کی بھی پُراثر تقریر، فصاحت یا دلیل کام نہیں آتی۔ یہ شعر محبوب کے جلال کے سامنے دوستوں کی بے بسی اور عشق کی بے اختیاری کو نہایت بے تکلف اور دلکش انداز میں بیان کرتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
