“How could the dust beneath your feet ever come to one's hand, unless an elixir has been written into one's destiny?”
تمہارے قدموں کی دھول کسی کے ہاتھ کیسے آ سکتی ہے، جب تک کہ کسی کی قسمت میں اکسیر نہ لکھی ہو۔
شاعر نے یہاں لفظ ’خاک‘ کا بہت دلکش استعمال کیا ہے—ایک طرف مایوسی کا اظہار کہ ’کیا خاک ملے گا‘، اور دوسری طرف محبوب کے ’خاکِ کفِ پا‘ کی بے پناہ قدر و قیمت۔ ان کا کہنا ہے کہ محبوب کے قدموں تلے بچھنے والی مٹی بھی کوئی معمولی گرد نہیں، بلکہ وہ تو کیمیا اور اکسیر کا درجہ رکھتی ہے۔ جب تک انسان کی قسمت میں کوئی بڑا معجزہ یا نصیب کی یاوری نہ لکھی ہو، اس متبرک خاک کا ملنا بھی ممکن نہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
