“Even if he comes, he turns on his heel and retreats; when fate is overturned, such is the misfortune one meets.”
جب کسی کی تقدیر الٹ جاتی ہے، تو اگر کوئی آتا بھی ہے تو وہ الٹے پاؤں واپس لوٹ جاتا ہے۔
اس شعر میں شاعر نے قسمت کی ستم ظریفی اور دل کی بے بسی کو کمال سادگی سے پرویا ہے۔ یہاں ’الٹا پھر جانے‘ اور ’تقدیر کے الٹ جانے‘ کا لفظی و معنوی تال میل دل کو چھو لیتا ہے؛ یعنی جب نصیب ہی بگڑ جائے تو محبوب دہلیز تک آ کر بھی بنا ملے واپس مڑ جاتا ہے۔ یہ اس نا امیدی کی تصویر ہے جہاں امید کی کرن سامنے ہوتے ہوئے بھی ہاتھ نہیں آتی۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
