“There is weeping, there is wailing, and sighs and cries of pain; yet upon that cruel heart, all influence proved in vain.”
رونا بھی ہے، فریاد بھی ہے اور آہ و زاری بھی، مگر ان میں سے کسی چیز کا بھی اس کے دل پر کوئی اثر نہ ہوا۔
اس شعر میں عاشق نے اپنے غم کی ہر کیفیت یکجا کر دی ہے—چاہے وہ آنسوؤں کی بارش (گریہ) ہو، دل کی فریاد (نالہ) یا درد بھری آہیں اور چیخیں۔ مگر المیہ یہ ہے کہ غم کا یہ پورا طوفان بھی محبوب کے سنگلاخ دل میں ذرا سا اثر نہ پیدا کر سکا۔ یہ شعر محبوب کی بے رخی کے سامنے سچے جذبات کی بے بسی اور گہرے دکھ کا نہایت پردرد مرقع ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
