“Be not proud, O man of wealth, where your palace stands today; for here upon this very ground, another's mansion once lay.”
اے دولت مند! اپنے محل پر غرور مت کر، کیونکہ جہاں آج تیرا محل ہے، وہاں پہلے بھی کسی کی عمارت رہی ہوگی۔
یہ شعر دنیاوی جاہ و حشمت اور دولت کی ناپائیداری کا ایک نہایت دلنشین اور گہرا درس ہے۔ شاعر ایک صاحبِ ثروت انسان کو سمجھاتے ہوئے کہتا ہے کہ اپنے بلند و بالا محل پر اتنا اترانے کی ضرورت نہیں، کیونکہ جس مٹی پر آج تیرا مسکن ہے، کبھی وہاں تجھ سے پہلے بھی کسی کی شان قائم رہی ہوگی۔ یہ وقت کے اس بے رحم سچ کی عکاسی ہے جو بتاتا ہے کہ مٹی کے اس ڈھیر پر ہر عروج کو آخرکار زوال ہی نصیب ہونا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
