“Should the gaze stray from the heart, the heart is held captive; one commits the crime, yet another bears the blame.”
اگر نگاہ اس طرف چلی جائے تو دل گرفتار ہو جاتا ہے؛ یعنی جرم کوئی اور (آنکھیں) کرے اور اس کا قصور وار کسی اور (دل) کو ٹھہرایا جائے۔
اس شعر میں شاعر نے محبت کے ایک دلکش اور معصومانہ تضاد کو بڑی خوبصورتی سے بیان کیا ہے۔ آنکھیں تو محبوب کا دیدار کر کے خطا کی مرتکب ہوتی ہیں، مگر قید و بند کی سزا بے چارے دل کے حصے میں آتی ہے۔ نگاہوں کی اس لاپرواہ آوارگی کا سارا تاوان دل کو محبت کی اسیری کی صورت میں چکانا پڑتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
