“Sharper than those arched brows and lashes, O Zafar, / Neither is anyone's dagger, nor anyone's sword.”
اے ظفر! محبوب کی بھنوؤں اور پلکوں سے زیادہ تیز نہ تو کسی کا خنجر ہے اور نہ ہی کسی کی تلوار۔
اس شعر میں ظفرؔ نے کلاسیکی غزل کے روایتی استعاروں کو خوبصورتی سے برتا ہے، جہاں محبوب کی خمیدہ ابرو کو خنجر اور تیکھی پلکوں کو شمشیر سے تشبیہ دی جاتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ دنیا کے کسی بھی فولادی ہتھیار میں وہ کاٹ نہیں جو محبوب کی ان نگاہوں اور پلکوں میں ہے۔ یہ دراصل حسن کے سامنے دل کا وہ والہانہ اعترافِ شکست ہے، جس کا اشارہ یہ ہے کہ تلوار تو محض جسم کو گھائل کرتی ہے، مگر نظر کا وار سیدھا روح پر لگتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
