غزل

بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی

بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی
بہادر شاہ ظفر· Ghazal· 9 shers· radif: कभी ऐसी तो न थी

یہ غزل محبوب کی محفل میں عاشق کی بے بسی، خاموشی اور دل کی شدید بے قراری کی دلدوز عکاسی کرتی ہے۔ اس میں اس کیفیت کو بیان کیا گیا ہے جہاں اب حالِ دل بیاں کرنا بھی محال ہو چکا ہے اور دل کا سارا صبر و قرار چھن گیا ہے۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
رسم الخط
1
बात करनी मुझे मुश्किल कभी ऐसी तो न थी जैसी अब है तिरी महफ़िल कभी ऐसी तो न थी
بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی جیسی اب ہے تری محفل کبھی ایسی تو نہ تھی
میرے لیے بات کرنا پہلے کبھی اس قدر مشکل نہیں تھا، اور نہ ہی تمہاری محفل پہلے کبھی ایسی تھی جیسی اب ہے۔
2
ले गया छीन के कौन आज तिरा सब्र ओ क़रार बे-क़रारी तुझे ऐ दिल कभी ऐसी तो न थी
لے گیا چھین کے کون آج ترا صبر و قرار بے قراری تجھے اے دل کبھی ایسی تو نہ تھی
آج تیرا صبر اور سکون کون چھین کر لے گیا ہے؟ اے دل، تجھے پہلے کبھی ایسی بے چینی تو نہ تھی۔
3
उस की आँखों ने ख़ुदा जाने किया क्या जादू कि तबीअ'त मिरी माइल कभी ऐसी तो न थी
اس کی آنکھوں نے خدا جانے کیا کیا جادو کہ طبیعت مری مائل کبھی ایسی تو نہ تھی
خدا جانے اس کی آنکھوں نے کیا جادو کر دیا ہے کہ میرا دل اس سے پہلے کبھی اس طرح مائل نہیں ہوا تھا۔
4
अक्स-ए-रुख़्सार ने किस के है तुझे चमकाया ताब तुझ में मह-ए-कामिल कभी ऐसी तो न थी
عکس رخسار نے کس کے ہے تجھے چمکایا تاب تجھ میں مہ کامل کبھی ایسی تو نہ تھی
کس کے رخسار کے عکس نے تجھے اس طرح چمکا دیا ہے؟ اے پورے چاند، تجھ میں کبھی ایسی چمک تو نہیں تھی۔
5
अब की जो राह-ए-मोहब्बत में उठाई तकलीफ़ सख़्त होती हमें मंज़िल कभी ऐसी तो न थी
اب کی جو راہ محبت میں اٹھائی تکلیف سخت ہوتی ہمیں منزل کبھی ایسی تو نہ تھی
اس بار محبت کی راہ میں جو تکلیف اٹھائی ہے، ہماری منزل پہلے کبھی اتنی سخت اور دشوار نہیں ہوئی تھی۔
6
पा-ए-कूबाँ कोई ज़िंदाँ में नया है मजनूँ आती आवाज़-ए-सलासिल कभी ऐसी तो न थी
پائے کوباں کوئی زنداں میں نیا ہے مجنوں آتی آواز سلاسل کبھی ایسی تو نہ تھی
قید خانے میں پاؤں پٹکتا ہوا ضرور کوئی نیا مجنوں آیا ہے، کیونکہ زنجیروں کے کھڑکنے کی ایسی آواز پہلے کبھی نہیں آتی تھی۔
7
निगह-ए-यार को अब क्यूँ है तग़ाफ़ुल ऐ दिल वो तिरे हाल से ग़ाफ़िल कभी ऐसी तो न थी
نگہ یار کو اب کیوں ہے تغافل اے دل وہ ترے حال سے غافل کبھی ایسی تو نہ تھی
اے دل، اب محبوب کی نظر میں یہ بے رخی کیوں ہے؟ وہ تیرے حال سے پہلے کبھی اس قدر بے خبر تو نہ تھی۔
8
चश्म-ए-क़ातिल मिरी दुश्मन थी हमेशा लेकिन जैसी अब हो गई क़ातिल कभी ऐसी तो न थी
چشم قاتل مری دشمن تھی ہمیشہ لیکن جیسی اب ہو گئی قاتل کبھی ایسی تو نہ تھی
محبوب کی قاتل آنکھیں ہمیشہ سے میری دشمن تھیں، لیکن جیسی اب جان لیوا ہو گئی ہیں، پہلے کبھی ایسی نہ تھیں۔
9
क्या सबब तू जो बिगड़ता है 'ज़फ़र' से हर बार ख़ू तिरी हूर-शमाइल कभी ऐसी तो न थी
کیا سبب تو جو بگڑتا ہے ظفرؔ سے ہر بار خو تری حور شمائل کبھی ایسی تو نہ تھی
کیا وجہ ہے کہ تم ہر بار ظفر سے ناراض ہو جاتے ہو؟ اے حور جیسی خوبصورت خصلت والے محبوب، تمہاری عادت پہلے کبھی ایسی تو نہ تھی۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.

بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی | Sukhan AI