“The slayer's eye was ever my sworn enemy, yet never before was it so deadly as it has now become.”
محبوب کی قاتل آنکھیں ہمیشہ سے میری دشمن تھیں، لیکن جیسی اب جان لیوا ہو گئی ہیں، پہلے کبھی ایسی نہ تھیں۔
اردو شاعری میں محبوب کی قاتل نگاہوں کا ذکر بہت دلکش استعارہ ہے، جو دل کو گھائل بھی کرتی ہیں اور سحر زدہ بھی۔ شاعر کہتے ہیں کہ محبوب کی آنکھیں تو پہلے بھی ستم ڈھاتی تھیں، مگر اب ان میں ایسی بے رخی یا تیور آ گئے ہیں جو پہلے کبھی نہ تھے اور اب جان بچانا ناممکن ہو گیا ہے۔ یہ شعر محبوب کے بدلتے ہوئے رویے اور محبت کے بڑھتے ہوئے عذاب کو انتہائی سادگی اور اثر انگیز انداز میں پیش کرتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
